وضو کی سنتیں اور آداب-۷

۱۹) جب وضو مکمل ہو جائے، تو کلمۂ شہادت پڑھنا (اگر آپ کھلی جگہ میں ہیں، تو کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھیں)۔[۲۶] نیز احادیث مبارکہ  میں وارد دیگر مسنون دعائیں پڑھنا۔

ذیل میں کچھ مسنون دعائیں نقل کی جاتی ہیں، جو وضو کے اختتام پر پڑھی جائیں:

پہلی دعا:

جو شخص مندرجہ ذیل دعا پڑھےگا، اس کے لیے جنت کے آٹھ دروازے کھلیں گے، وہ ان میں سے جس دروازے سے چاہے، جنت میں داخل ہو سکتا ہے [۲۷]:

أَشْهَدُ أَن لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِيْ مِنَ الْمُتَطَهِّرِيْنَ

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ تنہا ہیں۔ ان کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو خوب توبہ کرنے والے ہیں اور خوب پاک ہیں۔

دوسری دعا :

جو شخص وضو کے بعد مندرجہ ذیل دعا پڑھے گا، اس کے لیے اس کا ثواب ایک کاغذ میں لکھا جائے گا اور اس پر مہر لگایا جائےگا پھر وہ کاغذ قیامت تک محفوظ  رکھا جائے گا ۔

سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَن لَّا إلٰهَ إلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إلَيْكَ[۲۸]

اے اللہ! آپ کی ذات پاک ہے۔ آپ ہی کے لیے تعریف ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ میں آپ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور آپ کے سامنے توبہ کرتا ہوں۔

۲۰) ترتیب سے وضو کرنا۔ [۲۹]

۲۱) دائیں اعضا کو بائیں اعضا سے پہلے دھونا۔ [۳۰]

عن عائشة رضي الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم ليعجبه التيمن فى تنعله وترجله وطهوره وفي شأنه كله (صحيح البخارى رقم ١٦٨)[۳۱]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب جوتا پہنتے یا کنگھی کرتے یا وضو کرتے یا اور دوسرے کام کرتے (یعنی ایسے کام جن کا تقاضا یہ ہے کہ ان دائیں جانب سے انجام دیا جائے ۔جیسے مسجد اور کعبہ شریف میں داخل ہونا، کپڑا پہننا، کسی کو کوئی چیز دینے یا کسی سے کوئی چیز لینا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے کہ آپ دائیں ہاتھ سے شروع کرے۔

 

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=130


 

[۲٦] عن عقبة بن عامر يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من توضأ فأحسن الوضوء ثم رفع نظره إلى السماء فقال أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله فتحت له ثمانية أبواب من الجنة يدخل من أيها شاء (مسند أحمد رقم ١٧٣٦٥)

[۲۷] عن عمر بن الخطاب رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من توضأ فأحسن الوضوء ثم قال أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهّرين فتحت له ثمانية أبواب الجنة يدخل من أيها شاء (سنن الترمذى رقم ٥٥)

انظر أيضا : صحيح مسلم رقم ٢٣٤، مجمع الزوائد رقم ١٢٢٩، ١٢٣٠

[۲۸] عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قرأ سورة الكهف كانت له نورا يوم القيامة من مقامه إلى مكة ومن قرأ عشر آيات من آخرها ثم خرج الدجال لم يضره ومن توضأ فقال: سبحانك اللهم وبحمدك لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك كتب في رق ثم جعل في طابع فلم يكسر إلى يوم القيامة. رواه الطبراني في الأوسط ورجاله رجال الصحيح إلا أن النسائي قال بعد تخرجه في اليوم والليلة : هذا خطأ والصواب موقوفا . ثم رواه من رواية الثوري وغندر عن شعبة موقوفا (مجمع الزوائد رقم ١٢٣١)

[۲۹]  (و) يسن (الترتيب) سنة مؤكدة فى الصحيح وهو (كما نص الله فى كتابه) (حاشية الطحطاوى ص٧٣)

[۳۰] الفصل الثالث في المستحبات  والمذكور منها في المتون اثنان الأول التيامن وهو أن يبدأ باليد اليمنى قبل اليسرى وبالرجل اليمنى قبل اليسرى وهو فضيلة على الصحيح وليس في أعضاء الطهارة عضوان لا يستحب تقديم الأيمن منهما على الأيسر إلا الاذنان ولو لم يكن له إلا يد واحدة أو بإحدى يديه علة ولا يمكنه مسحهما معا يبدأ بالأذن اليمنى ثم باليسرى كذا في الجوهرة النيرة (الفتاوى الهندية ١/٨)

[۳۱] (يحب التيمن) : أي: البدء بالأيامن من اليد والرجل والجانب الأيمن، لكن التيمن في اللغة المشهورة هو التبرك بالشيء من اليمن وهو البركة. في القاموس: اليمن بالضم البركة، وفي مختصر النهاية: اليمن البركة وضده الشؤم والتيمن الابتداء في الأفعال باليد اليمنى والرجل اليمنى والجانب الأيمن (ما استطاع) : أي: ما أمكنه وقدر عليه (في شأنه) : أي: في أمره (كله) : تأكيد والمراد الأمور المكرمة (مرقاة ٢/١١١-١١٢)

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔