وضو کی سنتیں اور آداب-۵

۱۳) انگلیوں کا خلال کرنا۔ پہلے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کا خلال کرنا پھر بائیں ہاتھ کی انگلیوں کا خلال کرنا۔

خلال کا طر یقہ یہ ہے کہ بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے اوپر رکھا جائے پھر بائیں ہاتھ کی انگلیوں کو دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے بیچ پھیرا جائے۔ اسی طرح دا ئیں ہاتھ کی انگلیوں کو بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے بیچ پھیرا جائے۔

خلال کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان داخل کیا جاوے۔ [۱۷]

عن عاصم بن لقيط بن صبرة عن أبيه رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم إذا توضأت فخلل الأصابع (سنن الترمذى رقم ٣٨) [۱۸]

حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم وضو کرو، تو انگلیوں کا خلال کرو۔

۱۴) پورے سر کا ایک بار مسح کرنا۔ مسح کا طریقہ یہ ہے کہ وضو کرنے والا اپنے دونوں ہاتھوں کو لے اور ان کو  پورے سر پر اس طرح پھیرے کہ سر کے اگلے حصہ سے شروع کرے اور پچھلے حصہ پر ختم کرے۔ [۱۹]

عن سلمة بن الأكوع رضى الله عنه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ فمسح رأسه مرة (سنن ابن ماجة رقم ٤٣٧)

حضرت سلمہ بن ا کو ع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو  دیکھا  کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا۔

۱۵) کانوں کا مسح کرنا۔ کان کا مسح اس طرح کیا جائے کہ شہادت کی انگلی کو کان کے اندرونی حصہ میں داخل کیا جائے اور انگوٹھے سے کان کے بیرونی حصہ یعنی کان کے پیچھے کا مسح کیا جائے۔ اس کے بعد چھوٹی انگلی یا شہادت کی انگلی کو کانوں کے اندر داخل کیا جائے۔ [۲۰]

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده (أي عبد الله بن عمرو بن العاص) قال إن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله كيف الطهور فدعا بماء فى إناء…ثم مسح برأسه وأدخل إصبعيه في أذنيه ومسح بإبهاميه على ظاهر أذنيه وبالسبّاحتين باطن أذنيه (سنن أبي داود رقم ١٣٥) [۲۱]

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وضو کا کیا طریقہ ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں پانی منگوایا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں داخل کیا۔ اور اپنے انگوٹھوں سے کانوں کا بیرونی حصہ اور شہادت کی انگلیوں سے کانوں کے اندرونی حصہ کا مسح کیا۔

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=130


 

[1]الفصل الثاني في سنن الوضوء … ومنها تخليل الأصابع وهو إدخال بعضها في بعض بماء متقاطر وهذا سنة مؤكدة اتفاقا كذا في النهر الفائق هذا إذا وصل الماء إلى أثنائها وإن لم يصل بأن كانت منضمة فواجب كذا في التبيين ويغنى عنه إدخالها في الماء ولو غير جار والأولى في اليدين التشبيك وفي الرجلين أن يخلل بخنصر يده اليسرى خنصر رجله اليمنى ويختم بخنصر رجله اليسرى كذا في النهر الفائق ويدخل الإصبع من أسفل كذا في المضمرات (الفتاوى الهندية ١/٧)

[2] قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح

[3] ( ومسح كل رأسه مرة ) مستوعبة فلو تركه وداوم عليه أثم ( وأذنيه ) معا ولو ( بمائه ) (الدر المختار ١/١٢٠)

قال الشامي : قوله ( مستوعبة ) هذا سنة أيضا كما جزم به في الفتح ثم نقل عن القنية أنه إذا داوم على ترك الاستيعاب بلا عذر يأثم قال وكأنه لظهور رغبته عن السنة قال الزيلعي وتكلموا في كيفية المسح والأظهر أن يضع كفيه وأصابعه على مقدم رأسه ويمدهما إلى القفا على وجه يستوعب جميع الرأس ثم يمسح أذنيه بأصبعيه اهـ وما قيل من أنه يجافي المسبحتين والإبهامين ليمسح بهما الأذنين والكفين ليمسح بهما جانبي الرأس خشية الاستعمال فقال في الفتح لا أصل له في السنة لأن الاستعمال لا يثبت قبل الانفصال والأذنان من الرأس (رد المحتار ١/١٢١)

[4] ( ومسح كل رأسه مرة ) مستوعبة فلو تركه وداوم عليه أثم ( وأذنيه ) معا ولو ( بمائه ) (الدر المختار ١/١٢٠)

قال الشامي : قوله ( وأذنيه ) أي باطنهما بباطن السبابتين وظاهرهما بباطن الإبهامين قهستاني قوله ( معا ) أي فلا تيامن فيهما كما سيذكره (رد المحتار ١/١٢١)

حدثنا محمود بن خالد ويعقوب بن كعب الأنطاكي – لفظه – قالا حدثنا الوليد بن مسلم عن حريز بن عثمان عن عبد الرحمن بن ميسرة عن المقدام بن معديكرب قال رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- توضأ فلما بلغ مسح رأسه وضع كفيه على مقدم رأسه فأمرهما حتى بلغ القفا ثم ردهما إلى المكان الذى بدأ منه. قال محمود قال أخبرنى حريز.

حدثنا محمود بن خالد وهشام بن خالد المعنى قالا حدثنا الوليد بهذا الإسناد قال ومسح بأذنيه ظاهرهما وباطنهما زاد هشام وأدخل أصابعه فى صماخ أذنيه (سنن أبي داود رقم ١٢٢-١٢٣)

ومن الأدب دلك أعضائه، وإدخال خنصره صماخي أذنيه (الفتاوى الهندية ١/ ٩)

(قوله: ومسح الأذنين) هو سنة مؤكدة ويمسح باطنهما وظاهرهما وهو أن يدخل سبابتيه في صماخيه وهما ثقبا الأذنين ويديرهما في زوايا أذنيه ويدير إبهاميه على ظاهر أذنيه (الجوهرة النيرة ١/ ٦)

[5] قال الشيخ تقي الدين في الإمام: وهذا الحديث صحيح عند من يصحح حديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده لصحة الإسناد إلى عمرو، انتهى. (نصب الراية رقم٤٠)

أخرجه الأربعة إلا الترمذي وإسناده قوي (الدراية)

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔